زیر ادمہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ حیاتیات ]  برادمہ کے نیچے کی خلئی بافت۔ "برادمہ کے نیچے چند پرتیں دبیز بافتی . خلیوں کی پائی جاتی ہیں جن کو زیر ادمہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٠ء، مبادی نباتیات (معین الدین)، ٥٩٦:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت'زیر' کے ساتھ عربی اسم 'ادمہ' لگانے سے مرکب 'زیر ادمہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٧١ء کو "حشریات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ حیاتیات ]  برادمہ کے نیچے کی خلئی بافت۔ "برادمہ کے نیچے چند پرتیں دبیز بافتی . خلیوں کی پائی جاتی ہیں جن کو زیر ادمہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٠ء، مبادی نباتیات (معین الدین)، ٥٩٦:٢ )

جنس: مذکر